وزیراعظم اور کابینہ خوفزدہ ، ہیکرز سے آڈیوز کو خریدنا چاہتے ہیں، فواد چو ہدری

آڈیومیں مفتاح اسماعیل کی کارکردگی پر مریم نواز اور شہبازشریف کی گفتگو سب کے سامنے ہے

وزیر اعظم کا دفتر بھی سائبر سکیورٹی کے حوالے سے بہت کمزور ہے، پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد (ویب نیوز)

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم اور کابینہ خوفزدہ ہیں، ہیکرز سے آڈیوز کو خریدنا چاہتے ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میںپاک فوج کے ہیلی کاپٹر کا حادثہ ملک کے لیے ایک سانحہ ہے، فوجی جوانوں کی شہادت کے باعث ملک محفوظ ہے۔ وزیراعظم ہائوس کی آڈیو لیک پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی تک وزیرِ اعظم آفس نے آڈیو لیک پر بیان جاری نہیں کیا، خبر ہے کہ حکومت اس وقت ہیکرز کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے کہ وہ یہ ڈیٹا خرید لیں، 20 اگست سے اب تک وزیرِ اعظم آفس کی آڈیو لیک ہوتی رہی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے بہت خرچ کر کے ایجنسیوں کو جدید آلات سے لیس کیا، 340گھنٹوں کی آڈیو لیک ہوئی لیکن کسی ادارے کو معلوم ہی نہیں ہوا،وزیراعظم ہائوس میں 20اگست سے جتنی بھی گفتگو ہوئی آڈیوز ڈارک ویب پر موجود ہیں، وزیراعظم ہائوس کی سکیورٹی سوالیہ نشان ہے، وزیراعظم کی 140گھنٹے کی آڈیوز سیل پر لگی ہوئی ہے، وزیراعظم اور کابینہ اس وقت خوفزدہ ہیں اور وہ ان آڈیوز کو خریدنا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم کا دفتر بھی سائبر سکیورٹی کے حوالے بہت کمزور ہے، وزیراعظم آفس سے کوئی بھی بات کسی بھی وقت باہر جاسکتی ہے، اگر حکومت اسے خرید بھی لے تو کیا ثبوت ہے اس کا مزید استعمال نہیں ہوگا، جو لوگ آڈیوز میں ملوث ہیں انہیں سامنے لایا جائے، فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر داخلہ نے خود کہا کہ وزیر اعظم ہائو س غیر محفوظ ہے جہاں ہر چیز لیک ہوتی ہے، سارے معاملات کی تحقیقات بہت ضروری ہے، ہیکر کہہ رہا ہے کہ اس کے پاس مزید مواد ہے، آڈیوز میں مریم نوازاور شہبازشریف کی گفتگو موجود ہے۔ آڈیومیں مفتاح اسماعیل کی کارکردگی پر مریم نواز اور شہبازشریف کی گفتگو سب کے سامنے ہے، آڈیو میں جو بات ہوئی اسی طرح مفتاح اسماعیل کو ہٹایا گیا اور اسحاق ڈار کو لایا جارہا ہے،اس پر مفتاح کو پارٹی چھوڑ دینی چاہیے، مفتاح اسماعیل سے کام نکلوا کر اسے بس کے نیچے دھکا دے دیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ میں مریم اورنگزیب کے خاوند کو سگریٹ انڈسٹر ی کی مراعات کا سکینڈل سامنے لایا تھا، شہبازشریف میری بات کی تصدیق کررہے ہیں، بھارت سے تجارت کے پیچھے جو کہانی تھی اب سامنے آرہی ہے، بھارت سے تجارت پر مریم نواز اور بلاول زور دیتے رہے ہیں، وزیر اعظم کہہ رہے ہیں بھارت سے ڈائریکٹ کچھ نہ منگوائیں، کسی کو درمیان میں ڈال کرمنگوائیں، وزیر اعظم 62 اور 63 پر پورا اترتے ہیں، کیا ان کو کوئی پالیسی میکنگ دے سکتے ہیں؟۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مریم نواز کہہ رہی ہیں اس پر فریٹ زیادہ ہوگا، فیملی کی سوچ کا اندازہ کریں، مریم نواز باہر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف اندر کوئی اورمعیار ہے۔