شہباز شریف کو لندن بذریعہ دوھا جانے سے روک دیا گیا ہے

لاہور (ویب ڈیسک)

(May 08 2021 – 8 am)

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف دوحہ کے راستے برطانیہ جانے کے لئے پرواز نہ کر سکے۔ ائیر پورٹ سے بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد ایف آئی حکام نے آف لوڈ کر دیا۔

شہباز شریف نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ون ٹائم بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔ عطاللہُ تارڈ نے حکام کو عدالتی فیصلہ دکھایا اور پڑھ کر بھی سنایا، مگر مریم اورنگزیب اور عطااللہ تارڈ ایف آئی اے حکام کو قائل نہ کرسکے۔ ایف آئی حکام کے روکے جانے کے بعد شہباز شریف کو آف لوڈ کرنے کا فارم آرڈر بھی جاری کر دیا گیا۔

قطر ائیر لائن کی پرواز کیو آر 621 اپنے مقررہ وقت چار بجکر پچاس منٹ پر لاہور سے دوحہ کے لئے پرواز کرگئی۔ شہباز شریف اور لیگی قیادت آج قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کریں گے۔

آسلام آباد (ویب نیوز )

مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کو لندن بذریعہ دوھا جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ائرپورٹ پر شہباز شریف امیگریشن حکام نے دوھا جانے والی پرواز پر سوار ہونے سے روک دیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک وڈیو فیس بک پر لوڈ کی گئی ہے جس میں شہباز شریف مریم اورنگ زیب اور دوسرے راہنماء امیگریشن حکام سے بحث کرتے ہوئے نظر ارہے ہیں،

صدرشہباز شریف  دائر درخواست منظور ، مشروط طور پر باہر جانے کی اجازت

جسٹس علی باقر نجفی نے شہباز شریف کی بلیک لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ سنا د

شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں ، نام بلیک لسٹ میں شامل ہے تو بھی علاج کیلئے برطانیہ جانے سے نہیں روکا جائے گا. عدالت

لاہور (ویب ڈیسک)

لاہور ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدرشہباز شریف کی جانب سے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کے لیے اپنا نام بلیک لسٹ سے نکلوانے سے متعلق دائر درخواست منظور کرتے ہوئے مشروط طور پر باہر جانے کی اجازت دے دی۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی اور بلیک لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے شہباز شریف کو 8 ہفتوں کیلئے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔ اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں ، نام بلیک لسٹ میں شامل ہے تو بھی علاج کیلئے برطانیہ جانے سے نہیں روکا جائے گا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کوعلاج کیلئے ایک بار 8 مئی سے 3 جولائی تک برطانیہ جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔عدالت نے درخواست پر فریقین کو 5 جولائی کے لیے نوٹس بھی جاری کر دیے ہیں۔ ،لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا،قبل ازیں دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ شہباز شریف کو پہلی مرتبہ آشیانہ میں 2018 میں گرفتار کیا گیا اور گرفتاری کے بعد رمضان شوگر ملز کا کیس بنا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ فروری 2019 میں ضمانت ہوئی جس کے بعد حکومت نے نام ای سی ایل میں ڈال دیا لیکن ہائی کورٹ نے مارچ 2019 نام ای سی ایل سے نکال دیا۔امجد پرویز نے کہا کہ اس کے بعد حکومت نے نیا طریقہ نکالا اور نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف، برطانیہ میں ڈاکٹر مارٹن سے چیک اپ کے لیے وقت لے چکے ہیں اور ان کی ہفتہ کی فلائٹ بک ہے۔شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بلیک لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے صدر مسلم لیگ (ن)کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔امجد پرویز نے دلائل دیے کہ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنا غیر قانونی ہے۔اس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف کا نام کسی بلیک لسٹ میں ہے؟انہوں نے جواب دیا کہ یہ درخوست مفروضے کی بنیاد پر ہے اور بغیر ہدایات لیے میں عدالت کی معاونت نہیں کر سکتا۔جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ہدایت کی کہ وہ ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔لاہور ہائیکورٹ میں مختصر وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ ہدایات نہیں لے سکا، لوگ چھٹی کرکے جا چکے ہیں۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس چھٹیوں کے بعد رکھ لیں۔دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ شہباز شریف خود کہاں ہیں؟ اور پھر شہباز شریف کو 2 بجے طلب کر لیا۔امجد پرویز نے جواب دیا کہ شہباز شریف لاہور میں موجود ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ انہوں نے ریٹرن ٹکٹ کیوں نہیں لی۔جس پر ان کے وکیل نے جواب دیا کہ کورونا کی وجہ سے ریٹرن ٹکٹ فوری ملنا ممکن نہیں ہے لیکن اگر عدالت چاہتی ہے کہ واپسی کے وقت کا بتایا جائے تو اس حوالے سے یقین دہانی کرانے کو تیار ہیں۔بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ کے طلب کرنے پر شہباز شریف، مریم اورنگزیب اور عطا تارڑ کے ہمراہ لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کے میڈیکل میں کہیں نہیں بتایا کہ کوئی ایمرجنسی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ تو آن لائن ہو جاتی ہے اور قرنطینہ تو 14 سے 10 دن کا کبھی نہیں سنا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ شہباز شریف نے اتنے میڈیکل کے پراجیکٹ بنانے کا دعوی کیا وہاں اپنا علاج کروائیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ پوچھا یہ تھا کہ کیا بلیک لسٹ میں نام ہے؟انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ ایک ایسا شخص جس کا نام ای سی ایل میں نہیں ہے اور بلیک لسٹ کا معلوم نہیں، اس پر وفاقی حکومت کے تحفظات کیا ہیں؟جسٹس علی باقر نجفی نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ شہباز شریف واپس نہیں آئیں گے،کیا وفاقی حکومت کو کوئی گارنٹی چاہیے؟جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ درخوست گزار پہلے بھی ملک سے جا کر واپس آچکے ہیں۔وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ہمیں کچھ وقت چاہیے، چھٹیوں کی وجہ سے لوگ جا چکے ہیں۔علاوہ ازیں اس موقع پر سرکاری وکیل نے شہباز شریف کا نواز شریف کے ساتھ برطانیہ جانے کا حلف نامہ پڑھ کر سنایا۔دوران سماعت انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہمیں وقت دیا جائے تاکہ ہم دیگر اداروں سے مشاورت کرلیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ شہباز شریف نے عدالت میں گارنٹی دی تھی، اس میں تین باتیں طے ہوئی تھیں، ایک شرط کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ جمع کروائی جائے گی، نواز شریف کی طبعیت بہتر ہوگی تو واپس آئیں گے۔اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ نواز شریف کا نہیں ہے۔سرکاری وکیل نے کہا کہ شہباز شریف منی لانڈرنگ کیس کے مرکزی ملزم ہیں جبکہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو رہے ہیں۔جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف کے باہر جانے سے عدالتی کارروائی متاثر ہوگی؟جسٹس علی باقر نجفی نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ آپ کو باہر جانے کی کیا ایمرجینسی ہے؟ جس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ وہ کینسر کے مریض رہے ہیں اور مرض کا علاج نیو یارک اور لندن میں ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے کہا گیا کہ ڈاکٹر مارٹن سے ریگولر چیک اپ کراتا رہوں جبکہ جیل میں ہونے کی وجہ سے علاج میں تعطل آیا۔شہباز شریف نے کہا کہ جیل میں ہونے والے میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹ کی روشنی میں فوری علاج کی ضرورت ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا وطن واپس آنے کا کب تک کا ارادہ ہے۔شہباز شریف نے جواب دیا کہ جیسے ہی ڈاکٹرز نے علاج کے بعد جانے کا کہا میں فورا واپس آجاوں گا، میں پہلے بھی عدالت سے نہیں بھاگا تھا۔جسٹس علی باقر نجفی کا استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف اپنی واپسی کی کوئی ضمانت دے سکتے ہیں۔امجد پرویز نے شہباز شریف کی 3 جولائی کو پاکستان واپسی کی بھی ٹکٹ پیش کی۔دوران سماعت شہباز شریف نے کہا کہ میں ماں سے ملا، ان کے پاوں کو ہاتھ لگایا اور پاکستان واپس آگیا کیونکہ میں اس دھرتی کا بیٹا ہوں اور ملک کی خدمت کے لیے صحتمند رہنا چاہتا ہوں۔بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد شہباز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔۔عدالت نے دوطرفہ دلائل کے بعد شہبازشریف کو ایک دفعہ بیرون ملک جانے کی اجازت دے کر سماعت 5 جولائی تک ملتوی کردی، علاوہ ازیںشہباز شریف کی لند ن روانگی کیلئے غیر ملکی ایئر لائن سے آج ( ہفتہ کی) بکنگ کروالی گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق شہباز شریف آج ہی لندن روانہ ہو جائیں گے۔ شہبازشریف نے اپنے کینسر اور کمر کے ڈاکٹرز سے وقت لے رکھا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے پاکستان مسلم لیگ ن کی صدر میاں محمد شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت کے بعد رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو باہر جانے کی اجازت دینا قانون کے ساتھ مذاق ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینا قانون کے ساتھ مذاق ہے،اتنا جلد فیصلہ تو پنچائیت میں نہیں ہوتا۔

فواد چودھری نے کہا کہ اس طرح سے ان کا فرار ہونا بدقسمتی ہو گی، اس سے پہلے وہ نواز شریف کی واپسی کی گارنٹی دے چکے ہیں سوال یہ ہے کہ اس گارنٹی کا کیا بنا؟

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ فیصلے کے خلاف تمام قانونی راستے اختیار کریں گے، ہمارے نظام عدل کی کمزوریوں کی وزیر اعظم کئی بار نشاندہی کر چکے ہیں لیکن اپوزیشن اصلاحات پر تیار نہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس بوسیدہ نظام سے ان کے مفاد وابستہ ہیں۔

دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے ٹویٹر پر لکھا کہ شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی کی اجازت حیران کن فیصلہ ہے۔ پہلے بھائی کی جھوٹی ضمانت دی اسے باہر بھاگنے میں مدد دی جو کبھی واپس نہیں آئے- اب وہ مفرور قرار ہیں۔ کیا انہیں ایک مفرور کی معاونت میں اندر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ 35 سال کی حکومت میں ایک ہسپتال ایسا نہیں جہاں ان کا علاج ہو سکے۔