ملک میں دوکروڑ بچوں کا سکول نہ جانا بہت بڑا المیہ ہے ، عمران خان

احساس پروگرام میں لڑکیوں کو زیادہ مراعات دی گئیں، لڑکوں کیلئے تعلیمی وظیفہ ڈیڑھ ہزار روپے جبکہ لڑکیوں کے لیے 2 ہزار روپے ہے
ایک تعلیم یافتہ خاتون، ایک مرد سے زیادہ معاشرے کو فائدہ پہنچاتی ہے کیوں کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دیتی ہے، گھر کا نظام بدل دیتی ہے
وزیر اعظم کا احساس تعلیمی وظائف پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں دوکروڑ بچوں کا سکول نہ جانا بہت بڑا المیہ ہے،موجودہ حکومت کی کوشش ہے غریب بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرے ۔احساس تعلیمی وظائف پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے عوام ہوتے ہیں جب انہیں تعلیم نہیں دی جائے گی تو نہ صرف وہ سرمایہ ضائع ہوگا بلکہ یہ ظلم اور ناانصافی بھی ہے کہ انہیں اوپر آنے کا موقع ہی نہیں دیا جائے۔ ہم نے جو یہ  احسا س تعلیمی پروگرام لانچ کیا ہے اس کے 2 اہم پہلو ہیں، پہلا یہ کہ ملک میں سکول نہ جانے والے 2 کروڑ بچوں کو بنیادی تعلیم دی جائے  تمام تعلیمی وظائف ماں کو اپنے بچوں کی 70فیصد حاضری پر بائیومیٹرک طریقے سے ادا کیے جائیں گے ،ملک میں دوکروڑ بچوں کا سکول نہ جانا بہت بڑا المیہ ہے  ۔انہوںنے کہا کہ یہ پروگرام اس مسئلے کا حل پیش کررہا ہے جس کے تحت بچوں کو سکولز میں لانے کی کوشش کی جائے گی، یہ مسئلہ زیادہ تر غریب گھرانوں میں ہوتا ہے اس لیے انہیں معاوضے اور مراعات دی جائیں گی،موجودہ حکومت کی کوشش ہے غریب بچوں کو تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ سکول نہ جانے والے بچوں میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے، ہم نے تعلیم کو اہمیت نہیں دی لیکن خاص کر لڑکیوں کی تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ہمارا اتنا بڑا اثاثہ ضائع ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ خاتون، ایک مرد سے زیادہ معاشرے کو فائدہ پہنچاتی ہے کیوں کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دیتی ہے، گھر کا نظام بدل دیتی ہے اورگھر میں بچوں کی صحت اور بہتر دیکھ بھال کا معاشرے پر بہت اثر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام میں لڑکیوں کو زیادہ مراعات دی گئی ہیں، لڑکوں کے لیے تعلیمی وظیفہ ڈیڑھ ہزار روپے جبکہ لڑکیوں کے لیے 2 ہزار روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں یہ تاثر ہے کہ گویا ہم اپنی بچیوں کو پڑھانا نہیں چاہتے ایسا بالکل نہیں ، میں پاکستان کے تمام علاقوں میں گیا ہوں، شاید ہی کسی نے پاکستان کو اس طرح دیکھا ہو جو میں نے دیکھا ہے، ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم نہ دلوانا چاہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم میں مختلف مسائل حائل ہوتے ہیں، کئی مرتبہ سکولز دور ہوتے ہیں یا ان میں اساتذہ ہی نہیں ہوتے لیکن حکومت کی ذمہ داری تھی کہ سہولیات فراہم کی جاتیں جو نہیں کی گئیں، میں خاص طور پر سراہتا ہوں کہ ہمیں لڑکیوں کو سکولز آنے کی ترغیب دینی چاہئے۔