آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی ،،، دو ارب چھیاسی کروڑ روپے مالیت کا بجٹ منظور

آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی نے مالی سال 2021-22کیلئے دو ارب چھیاسی کروڑ روپے مالیت کا بجٹ منظور کر لیا

مظفرآباد (ویب  نیوز) آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی نے مالی سال 2021-22ء کیلئے دو ارب چھیاسی کروڑ روپے مالیت کا بجٹ منظور کر لیا ہے۔ بجٹ کی منظوری یونیورسٹی کی فنانس و پلاننگ کمیٹی کے اڑتالیسویں اجلاس میں دی گئی جس کی صدات کمیٹی کے چیئرمین اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے کی۔ فنانس و پلاننگ کمیٹی کے اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے ڈائریکٹر جنرل (فنانس ) غلام نبی جبکہ حکومت آزاد کشمیر کے محکمہ مالیات کی طرف سے ایڈیشنل سیکرٹری مالیات محترمہ نادیہ سمیع نے شرکت کی۔ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے محکمہ ہائر ایجوکیشن کی نمائندگی ڈائریکٹر کالجز ڈاکٹر عبدالرحمان نے کی جبکہ جامعہ کشمیر رجسٹرار /ممبر فنانس کمیٹی پروفیسر ڈاکٹر عائشہ سہیل ، ناظم مالیات و منصوبہ بندی اور فنانس کمیٹی کے سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں یونیورسٹی کی چاروں فیکلٹی کے ڈین حضرات پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ، پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم ، پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید ، پروفیسر ڈاکٹر بشیر الرحمان کنٹھ کے علاوہ ڈائریکٹر QEC ڈاکٹر ایاز عارف خان ، ڈاکٹر پلاننگ و ڈویلپمنٹ پروفیسر ڈاکٹر انصر یاسین اورایڈیشنل ڈائر یکٹر فنانس سید شفاعت علی گیلانی بطور مبصر شریک ہوئے۔ یونیورسٹی کے مالی سال 2021-22ء کے میزانیہ میں یونیورسٹی کی آمدن ، اخراجات اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گرانٹ سے ترقیاتی و غیر ترقیاتی اخراجات پورے کرنے کے حوالے سے مفصل رپورٹ پیش کی گئی

اور یونیورسٹی کی آمدن و اخراجات اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے دی گئی گرانٹ کی مختلف مدات پر مفصل بحث کرتے ہوئے ، ڈائریکٹر فنانس ہائر ایجوکیشن کمیشن ایڈیشنل سیکرٹری فنانس حکومت آزاد کشمیر نے اپنی مختلف تجاویز پیش کیں۔ رواں سال یونیورسٹی بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں ہائرایجوکیشن کمیشن کی طرف سے چوالیس کروڑ چورانے لاکھ کی گرانٹ مختص کی گئی ہے۔ جبکہ آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے پینتیس لاکھ کی گرانٹ بھی شامل ہے۔ بجٹ کا بقیہ حصہ یونیورسٹی اپنے وسائل سے مہیا کر رہی ہے۔ بجٹ میں یونیورسٹی میں تحقیقی امور کی انجام دہی کیلئے ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے مختص کیئے گئے ہیں۔ جبکہ کارنفرنسز /سیمینارز کیلئے دس لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یونیورسٹی میں تعمیراتی کاموں کیلئے چار کروڑ روپے مختص کرنے کے علاوہ مختلف کیمپسز میں جاریہ منصوبوں کی تکمیل کیلئے اٹھاون کروڑ روپے کی رقم بھی مختص کی گئی ہے۔ جبکہ جامعہ کشمیر کے نو تعمیر شدہ کنگ عبداللہ کیمپس چھتر کلاس میں چھپن لاکھ چوہتر ہزار روپے کی رقم سے ضروری اپریشنل سہولتوں کی فراہمی ، اس کیمپس میں زیر تعمیر فیکلٹی ہاسٹل کی تکمیل پندرہ لاکھ آٹھ ہزار سات سو روپے رقم کی فراہمی ، چہلہ بانڈی گرلز ہاسٹل کی تکمیل کیلئے دس لاکھ روپے اور چھتر کلاس کیمپس میں دیگر ضروریات کی فراہمی کیلئے تین کروڑ اٹھانوے لاکھ آٹھ صد اٹھارہ روپے کی رقم بھی مختص کی گئی ہے۔ چھتر کلاس کیمپس کیلئے درکار مالی وسائل پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے درکار بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شعبہ جات باالخصوص نئے شعبہ جات میں اُساتذہ کی تئیس نئی اسامیاں تخلیق کیئے جانے کی منظوری جبکہ چھتر کلاس میں ایڈمنسٹریشن کی ضرورت کے پیش نظر پندرہ اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے شرکاء اجلاس کو بتایا کہ کرونا وباء کی وجہ سے یونیورسٹی کو تقریباً پینتالیس کروڑ روپے کا خسارہ ہوا ہے۔

جس کی وجہ سے جامعہ کو مالیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، مگر گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی بہتر مالی و انتظامی مینجمنٹ کے ذریعے مالی خسارہ پر قابو پاء لیا جائیگا۔ اُنہوں نے بتایا کہ جامعہ کشمیر میں مکانیت کا شدید مسئلہ درپیش تھا جس کی وجہ سے کوالٹی ایجوکیشن ، ریسرچ ، تحقیق اور دوسرے امور میں ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور سعودی عرب حکومت کی مدد سے چھتر کلاس کیمپس مکمل ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے مکانیت کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارا اگلا ہدف جامعہ کشمیر میں کوالٹی ایجوکیشن اور ریسرچ کلچر کا فروغ ہے اور ہمارا مستقبل کا پلان بھی یہی ہے کہ یہاں کے فارغ التحصیل گریجویٹس قومی اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کی پوزیشن میں آ سکیں۔ وائس چانسلر نے حکومت آزاد کشمیر اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی و اخلاقی تعاون پر اُن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل غلام نبی نے یونیورسٹی کی فنانشل مینجمنٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہتر مینجمنٹ کی وجہ سے جامعہ نے امسال اضافی اور مثبت بجٹ پیش کیا ہے۔ یونیورسٹی میں فیکلٹی اور طلباء کی تعداد اور انفراسٹریکچر کے بہتر ہو جانے کے بعد اُمید ہے کہ مستقبل میں جامعہ مالی لحاظ سے مزید مستحکم ہو جائیگی۔ اُنہوں نے یقین دلایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پہلے کی طرح ریاست کی اس اولین یونیورسٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کریگی۔ آخر میں شرکار اجلاس کو ناظم مالیات اور اُن کی ٹیم کو بجٹ کی منظوری کی مبارکباد دی۔
#/S