• جلد  اسٹمپ کے بغیر سیگرٹ فروخت کرنے والی دکانوں پر چھاپوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا
  •  غیر رجسٹرڈ سگرٹس ملک بھر میں  ضبط کرتے ہوئے تلف کردئیے جائیں گے۔
  • چیئرمین ایف بی آر کی  پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بریفنگ
  •   ارکان نے  سگریٹ کی ڈبی کے مطابق ٹیکس میں کئی گنا اضافے کا مطالبہ کردیا
  •  اداروں کی جانب سے ایکٹ آف پارلیمنٹ  کے مطابق  انٹرنل آڈٹ افسران تعینات نہ کرنے کا نوٹس

اسلام آباد (ویب  نیوز)

پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کو چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ سابقہ فاٹا و پاٹا  میں 1 لاکھ 21ہزار سے زائد نان کسٹم پیڈ گاڑیاں موجود ہیں۔ ریگولرائزکرنے سے قومی خزانے کو38ارب کی آمدن ہوسکتی ہے، ملک میں سالانہ 90ارب سیگریٹس تیار ہورہے ہیں ، 30ارب سیگرٹس سے کوئی ٹیکس نہیں مل رہا، سگریٹس کی تمام فیکٹریوں بشمول آزاد کشمیر میںٹریکنگ اینڈ ٹریس  سسٹم لگے گا، جلد  اسٹمپ کے بغیر سیگرٹ فروخت کرنے والی دکانوں پر چھاپوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور غیر رجسٹرڈ سگرٹس ملک بھر میں  ضبط کرتے ہوئے تلف کردئیے جائیں گے۔ پی اے سی کے ارکان نے  سگریٹ کی ڈبی کے مطابق ٹیکس میں کئی گنا اضافے کا مطالبہ کردیا تاکہ سگریٹ مہنگی ہونے سے  سگریٹ نوشی کے رجحان میں کمی آئے  جس سے قوم کی صحت بہتر ہوگی۔ کمیٹی نے  وزارتوں، ڈویژنوں اور نیم خودمختار اداروں کی جانب سے ایکٹ آف پارلیمنٹ  کے مطابق  انٹرنل آڈٹ افسران تعینات نہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے  آڈٹ کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہاہے کہ  آڈٹ افسر کو وزارتوں  کے غیر مجاز افسران کی صدارت میں ڈی اے سی کے اجلاس میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ ہم دونوں کے حوالے سے اظہار ناپسندیدگی کرتے ہیں۔ آڈیٹر جنرل نے بتایا ایک سال قبل  تمام وزارتوں کو انٹرنل آڈٹ افسر تعینات کرنے کی سمری ارسال کردی گئی تھی مگر عملدرآمد نہیں ہوا ۔ کمیٹی نے  وزارت  خزانہ کے جوائنٹ سیکرٹری کی متعلقہ قانون سے لاعلمی پر اظہار تشویش کیا ہے۔ اجلاس میں نامکمل جواب ملنے اور افسران کے  نامناسب رویے کیخلاف کمیٹی رکن ڈاکٹر ملک مختیار احمد احتجاجاً واک آئوٹ کرگئے اور جاتے ہوئے کہاکہ ہر جگہ  جوگار لگے ہوئے ہیں ان افسران سے  ملک کا کام ہونے سے رہا۔ بعض  ارکان نے کہاکہ آڈٹ کو بند کردینا چا ہیے پی اے سی کا بھی وقت ضائع ہورہا ہے صرف 10فیصد قومی خزانے کی جانچ پڑتال ہوتی ہے 90فیصد بجٹ کی کوئی جانچ پڑتال نہیں ہوتی کیونکہ وزارتوں میں متعلقہ افسر ہی نہیں ہیں۔ بدھ کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین  نور عالم خان کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ ایف بی آر کے حسابات کی جانچ پڑتال کی گئی۔2019-20 کی آڈٹ رپورٹ میں ایف بی آر کے حسابات میں 72ارب28کروڑ روپے سے زائد رقوم پر20 آڈٹ پیراز بنائے گئے ہیں کمیٹی نے ویلیو ایڈیشن ٹیکس ، ریگولیٹریز ڈیوٹیز اور دیگر ٹیکسز کی مد میں 4ارب روپے سے زائد کی عدم وصولیوں پر کسٹم کے متعلقہ 37افسران کی فہرست پیش کرنے  اور افسران کیخلاف  ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کردی۔ ڈی جی آڈٹ نے پی اے سی کو شکایت کی کہ ایف بی آر والے  ریکارڈ ہی فراہم نہیں کرتے ۔ آڈٹ میں مشکلات پیش آتی ہیں ۔ نور عالم خان نے کہاکہ  یہ تو آڈٹ کی کمزوری ہے کسی ایسے  ڈی اے سی کے اجلاس میں نہ بیٹھیں جس میں پرنسپل اکائونٹنگ آفیسر کے بجائے ان کا کوئی نمائندہ بیٹھا ہو ۔ اگر اس اجلاس کے فیصلوں پر متعلقہ پرنسپل اکائونٹنگ افسر دستخط کرتا ہے تو یہ خلاف قانون ہے۔ احمد حسین دہڑ نے کہاکہ ایف بی آر والے کسی کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ ریکارڈ فراہم کریں جبکہ یہاں دہری شہریت والے  افسران  کے ریکارڈ تک رسائی ہے مگر عام پاکستانیوں کی نہیں۔ پھر تو آڈٹ کو بند کردیں پی اے سی کا وقت ضائع ہورہا ہے چوہدری برجیس طاہر اور نثار چیمہ نے بھی  ان کے موقف کی تائید کی ۔چیئرمین کمیٹی نے ان معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  اجلاس کے بعد چیئرمین ایف بی آر اور آڈیٹر جنرل کو اپنے چیمبر میں بلوالیا۔ انہوں نے کہاکہ افسران کی نا اہلی کی وجہ سے  اربوں کھربوں کے  ٹیکس وصول نہیں ہورہے۔ ٹیکس کی عدم وصولیوں کی نشاندہی بھی آڈٹ کو کرنا پڑتی ہے۔ ایف بی آر کی غلطی کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ ایف بی آر کا داخلی آڈٹ سسٹم انتہائی کمزور ہے۔کمیٹی نے وزارتوں ، ڈویژنوں  نیم خودمختار اداروں میں داخلی آڈٹ افسرتعینات نہ ہونے کے معاملے میں آئندہ اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ ، خزانہ اور  کابینہ کے سیکٹریز کو طلب کرلیا جبکہ تمام وزارتوں کو اس بارے میں تنبیہ خط لکھ دیا گیا کہ ایکٹ  آف پارلیمنٹ کی گزشتہ تین سالوں سے  خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ اجلاس کے دوران  چیئرمین ایف بی آر نے  سگریٹ پر ٹیکس اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے معاملات پر بریفنگ دی  اور آگاہ کیا کہ ملک میں سالانہ 90ارب سگریٹس بن رہے ہیں 60ارب پر ٹیکس وصولی ہے 30ارب پر ٹیکس وصول نہیں ہورہا۔ نور عالم خان نے کہاکہ اسلحہ برداروں کے ساتھ غیر رجسٹرڈ سگریٹس کے  ٹرکوں کو نکالا جاتا ہے اور میں ان راستوں سے آگاہ ہوں جہاں سے یہ دھندا ہورہا ہے  چیئرمین ایف بی آر کو ملاقات میں آگاہ کردوں گا۔  سگریٹ پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس ہونا چاہیے  تاکہ پینے کا رجحان کم ہو۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ گزشتہ سال  سگریٹس کمپنیوں سے 160ارب روپے ٹیکس کی وصولی ہوئی اور اس میں مقامی انڈسٹری کے صرف 3ارب شامل ہیں پانچ فیکٹریوں نے ٹریکنگ اینڈ ٹریس سسٹم لگانے سے انکارکردیا ہے جس پر ان کے  گیٹس پر ایف بی آر اور انٹیلی جنس کے اہلکار کھڑے کردئیے گئے ہیں تاکہ ان کا مال باہر نہ آسکے۔ انفورسمنٹ پلان  بن گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا سے  بعض مینوفیکچرز آزاد کشمیر منتقل کررہے ہیں انہوں نے انکشاف کیا کہ  یہ سگریٹ سازی ایک کنٹینر میں بھی ہوسکتی ہے اس طرح موبائل فیکٹریوں کے  غیر رجسٹرڈ سگریٹ کے ٹرک بھی نکلتے ہیں۔ گزشتہ سال 16ملین غیر رجسٹرڈ سگریٹس پکڑے گئے اور انہیں تلف کردیا گیا اب آزاد کشمیر میں بھی سگریٹس کی فیکٹریوں پر یہی ٹریکنگ اینڈ ٹریس سسٹم لگے گا۔ پارلیمنٹ سگریٹس پر ٹیکس بڑھا دے ہم عملدرآمد کیلئے تیار ہیں اس کیلئے  مالیاتی بل میں ترمیم درکار ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں سگریٹس پر گزشتہ سال کے 31ارب روپے کے  ٹیکس کے مقابلے میں  40ارب روپے  جمع ہوئے ہیں اور 29فیصد اضافہ ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کی ایک اہم فیکٹری نے بھی  جدید سسٹم لگا دیا ہے کوئی سگریٹ کی ڈبی بغیر اسٹمپ کے فیکٹری سے باہر نہیں آسکے گی خیبرپختونخوا کے متعلقہ علاقوں میں کسٹم کی چیک پوسٹیں اور پکٹس بنائی جارہی ہیں ۔ نان کسٹم پیڈ  گاڑیوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران 14ہزار 113گاڑیاں ضبط کی گئیں نیلامی  سے 36ارب روپے ملے ۔  سابقہ فاٹا اور پاٹا کی ایک لاکھ21ہزار 193 گاڑیوں کو حاصل استثنیٰ 2023میں ختم ہو جائے گا ان گاڑیوں کے حوالے سے کوئی ایمنسٹی اسکیم نہیں آئے گی ٹیکسز لگیں گے 2023 میں ان گاڑیوں کے مالکان سے ڈیوٹی وصول کی جائے گی ورنہ ان کو ضبط کرلیا جائے گا۔  ان گاڑیو ںسے 38ارب روپے کی ٹیکس و ڈیوٹی  کی وصولی کا امکان ہے۔