سری نگر (ویب نیوز)

  • شمالی کشمیر میں مزید دو مقامی کشمیری نوجوان ماجد نجار اور حنان احمد شہید
  • شمالی ضلع بارہ مولہ کے کریری علاقے میں بھارتی فوج کا آپریشن جاری
  • گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران4 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے ہیں

بھارتی فوج نے شمالی کشمیر میں مزید دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے۔ اس طرح گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران4 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے ہیں ۔ بھارتی فوج کی بھاری جمعیت نے جمعرات کی صبح شمالی ضلع بارہ مولہ کے کریری علاقے کو محاصرے میں لے لیا تھا ۔ فوجی آپریشن کے دوران دو مقامی نوجوانوں شاکر ماجد نجار اور حنان احمد سیہ کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا  دونوں نوجوانوں کا تعلق جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع سے ہے۔مقامی لوگوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شوپیاں ضلع سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو فوجیوں نے ایک فرضی مقابلے میں شہید کیا۔مقبوضہ علاقے کے انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار نے نوجوانوں کے قتل کا جواز فراہم کرنے کے لیے انہیں عسکریت پسند قرار دیا۔ وجے کمار نے دعوی کیا ہے کہ مارے جانے والوں کا تعلق لشکر طیبہ  سے ہے۔ان تازہ شہادتوں سے گزشتہ روز سے مقبوضہ علاقے میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد چار ہو گئی۔ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ روز ضلع کپواڑہ کے علاقے مژھل میں اسی طرح کی کارروائی کے دوران دو نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا۔۔ شمالی کشمیر میں بھارتی فورسز آپریشن کے باعث مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے گئے ہیں۔

  • جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے خلاف این آئی اے کا کریک ڈاون ایک بارپھر تیز کر دیا گیا
  • 16 مقامات پر جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیرکے رہنماوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے

جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے خلاف کریک ڈاون ایک بارپھر تیز کر دیا گیا ہے۔بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے  جمعرات کو شمالی کشمیر کے بارہ  مولا  ضلع کے  11 اور کشتواڑ میں پانچ مقامات پر جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے رہنماوں کے گھروں پر چھاپے مارے۔ این آئی اے ٹیموں نے بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف )کے اہلکاروں کے ہمراہ  چھاپوں کے دوران اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا ، این آئی اے نے کہا ہے کہ  جمعرات کو  جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے خلاف16 مقامات پر چھاپے مارے گئے ۔ اس سے قبل دو مئی کو بھی ۔بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے سرینگر، پلوامہ، اسلام آباد، کولگام بارہمولہ، جموں اور پونچھ کے اضلاع میں12 مقامات پر چھاپے مارے تھے ۔یاد رہے این آئی اے کے مسلسل چھاپے مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد امن کی واپسی کے مودی حکومت کے دعوئوں کی نفی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ علاقے کے لوگ گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے بھارتی فوج، پولیس اور اس کی بدنام زمانہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں اور 5اگست 2019 کے بی جے پی-آر ایس ایس کی ہندوتوا حکومت کے غیر قانونی اقدامات کے بعد مقبوضہ علاقے میں ظلم و جبر کئی گنا بڑھ گیا ہے۔