Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif chairs a high level security meeting in Islamabad on 27 March, 2024.

وزیراعظم کی زیر صدارت سیکیورٹی صورتحال پر اہم اجلاس، آرمی چیف کی بھی شرکت، ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار

 پوری قوم چینی جانوں کے ضیاع پر غمزدہ ہے،، وحشیانہ فعل کے مرتکب افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا،شہباز شریف

آخری دم تک دہشت گردی کا مقابلہ اپنی پوری طاقت سے کریں گے،آرمی چیف

سیکورٹی اجلاس میں وزیر اعظم کی ریاست کے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مکمل مشترکہ تحقیقات کرنے کی ہدایت

سانحہ بشام ، حکومت کا تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ…دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے گی، عطا اللہ تارڑ

وزیراطلاعات کی سلامتی کی صورتحال پر اعلی سطح کے اجلاس کے بعد  پریس کانفرنس

اسلام آباد( ویب  نیوز)

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پوری قوم چینی جانوں کے ضیاع پر غمزدہ ہے ،چینی باشندوں کی ہلاکت کے وحشیانہ فعل کے مرتکب افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا جبکہ  آرمی چیف نے کہا ہے کہ ہم دہشت گردی سے اس وقت تک لڑیں گے جب تک پاکستانی عوام اور ہمارے مہمانوں پر بری نظر ڈالنے والے ہر دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ وزیراعظم شہبازشریف کے زیر صدارت سیکیورٹی سے متعلق اعلی سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا، آرمی چیف، وزرائے اعلی، متعلقہ صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور انسپکٹر جنرلز آف پولیس نے شرکت کی۔۔وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو وزیرداخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روز ہونے والے بشام واقعہ پر بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں سکیورٹی اداروں کے سربراہان کی جانب سے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کی گئی، جس پر وزیراعظم نے ملک بھر میں موجود تمام چینی باشندوں کی فول پروف سکیورٹی کی ہدایت کردی۔اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ترقیاتی منصوبے پر کام کرنے والے معصوم شہریوں پر ہونے والے گھناونے حملے کو زیر غور لایا گیا۔وزیر اعظم نے حملے کے متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی اور کہا کہ اس وحشیانہ فعل کے مرتکب افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا۔وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان بھائی چارے کے پائیدار رشتے پر زور دیا پوری قوم چینی جانوں کے ضیاع پر غم زدہ ہے، وزیر اعظم نے ریاست کے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مکمل مشترکہ تحقیقات کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا دہشت گردی ایک بین الاقوامی خطرہ ہے جسے پاکستان کے دشمنوں نے پاکستان کی ترقی کو روکنے کے لیے آلہ کار بنایا ہے، پاک چین دوستی کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں کا مقصد خاص طور پر دونوں آہنی بھائیوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔اجلاس کے شرکا نے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔ شرکا نے سرحدوں کے پار دہشت گردوں کے لیے دستیاب پناہ گاہوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اجلاس کے دوران آرمی چیف نے ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے مسلح افواج کے عزم کا اعادہ کیا۔آرمی چیف نے کہا کہ قوم نے پچھلی دو دہائیوں سے ثابت قدمی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور پاکستان کے مخالفین کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا ہے پاکستان کے دشمنوں نے ایک بار پھر ریاست اور پاکستانی عوام کی لچک اور حوصلے کو کم سمجھا ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ ہم دہشت گردی سے اس وقت تک لڑیں گے جب تک پاکستان، اس کے عوام اور ان کے مہمانوں پر بری نظر ڈالنے والے ہر دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہم اس بات کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے کہ پاکستان کی خوشحالی میں کردار ادا کرنے والا ہر غیر ملکی شہری خصوصا چینی شہری پاکستان میں محفوظ اور محفوظ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آخری دم تک دہشت گردی کا مقابلہ اپنی پوری طاقت سے کریں گے۔

سانحہ بشام ، حکومت کا تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

 حکومت نے بشام میں دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم  بنانے کا فیصلہ کرلیا ، واقعہ  میں چینی باشندوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے، ایسے واقعات پاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے ، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی،ہم اپنا اور اپنے دیرینہ دوستوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ ان خیالا ت کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے  سلامتی کی صورتحال پر اعلی سطح کے اجلاس کے بعد  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا  ۔  داسو ہائیڈل پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے چینی شہریوں پر بشام میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد  بدھ کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت  اسلام آباد میں ہنگامی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا، چیف آف آرمی سٹاف، وزرائے اعلی، متعلقہ صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور پولیس  سربراہان نے شرکت کی ۔ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے  کہا کہ گزشتہ روز بشام میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، چین پاکستان کا آزمودہ دوست ہے، ہر مشکل وقت اور عالمی فورمز پر چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا، سی پیک ملک میں معاشی ترقی کا ضامن ہے، سی پیک کی بدولت ہماری جی ڈی پی میں خاصا اضافہ ہوا،سی پیک کے باعث ملک میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گے، وفاقی وزیر اطلاعات  نے کہا کہ وزیراعظم نے تمام مصروفیات ترک کر کے چینی سفارت خانہ کا دورہ کیا اور افسوسناک واقعہ پر چینی سفیر سے تعزیت کا اظہار کیا،وزیراعظم نے واقعہ کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اس کی تحقیقات کے حوالے سے یقین دہانی کرائی،دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہم پوری طرح پرعزم ہیںاورچینی سفیر کے ذریعے چینی قیادت کو یہ پیغام دیا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائے گی،پاکستان کی حکومت دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لئے پرعزم ہے، عطااللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے چین کے سفیر کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی، اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں،ایسے واقعات پاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، پاک چین دوستی انشااللہ قائم و دائم رہے گی، وفاقی وزیر اطلاعات  نے کہا کہ  وزیراعظم  نے سیکورٹی کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس کی صدارت کی ۔وفاقی وزیر اطلاعات  نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی،  قوم کو اتحاد کا پیغام دیا گیا کہ تمام اکائیاں وفاق کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت اور مفاد پر تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں،ہم اپنا اور اپنے دیرینہ دوستوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں، واقعہ کی تحقیقات کے حوالے سے جے آئی ٹی کے قیام پر بھی مشاورت ہوئی،اجلاس میں تمام فریقین کے حوصلے بلند تھے، وفاقی وزیر اطلاعات  نے کہا کہ اجلاس کے شرکاایک پیج پر تھے، ہم 2018مں ایک پرامن پاکستان چھوڑ کر گئے تھے، 2013میں جب ہم آئے تھے تو آئے روز دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے تھے، عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ہمارا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،یک زبان ہو کر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے،چینی قوم اور قیادت کے غم میں برابر کے شریک ہیں،ایسے واقعات کی روک تھام کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

#/S