بعض سابق حکمرانوں کی لندن میں جائیدادیں ہیں جہاں برطانیہ کا وزیراعظم بھی نہیں خرید سکتا

چھوٹا سا طبقہ ملک کے وسائل پر قبضہ کر کے بیٹھا ہے،عمران خان

بعض سابق حکمرانوں کی لندن کے ان علاقوں میں جائیدادیں ہیں جہاں برطانیہ کا وزیراعظم بھی نہیں خرید سکتا

بلوچستان کی محرومیاں ختم کرنے کیلئے دیگر صوبوں کے برابر لایا جائے گا

وزیراعظم کو بلوچستان کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی اس لئے صوبہ پر توجہ نہیں دی گئی

میرا نظریہ یہ ہے کہ پاکستان تب ترقی کرے گا جب اس کا نچلا طبقہ اوپر آئے گا،مدینہ کی ریاست کا ماڈل یہی تھا کہ غریب طبقے کو اوپرلایا گیا

ریاست مدینہ میں سربراہ مہنگے کپڑے نہیں بناتے تھے، پیسہ عوام پر خرچ کرتے تھے، وہ مہنگے محلات میں نہیں رہتے تھے،کوئٹہ میں تقریب سے خطاب

کوئٹہ(ویب  نیوز)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چھوٹا سا طبقہ ملک کے وسائل پر قبضہ کر کے بیٹھا ہے باقی قوم پیچھے چلی گئی ، ہمارے بعض حکمرانوں کی لندن کے ان علاقوں میں جائیدادیں ہیں جہاں برطانیہ کا وزیراعظم بھی جائیداد نہیں خرید سکتا،ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی جس سے یہ صوبہ پسماندہ رہ گیا ، خوشی ہے ہماری حکومت نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے،ڈھائی سال میں 3000 سے زائد کلو میٹر شاہراہیں تعمیر کیں ، صوبہ بلوچستان کو دیگر صوبوں کے برابر لایا جائے گا تاکہ اس صوبے کی محرومیاں ختم ہوں ،۔کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے بلوچستان میں منصوبوں کا آغاز کیا، بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر خوشی ہے،بلوچستان وہ منصوبہ ہے جسے ماضی میں نظرانداز کیا گیا۔ کامیابی اور عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے اللہ تعالیٰ اس کو عزت دیتا ہے جو اس کی مخلوق کے لئے کام کرتا ہے۔ لاہور میں ہسپتال بنانے پر لوگوں نے گنگا رام کی تعریف کی۔ جب دنیا رہے گی لاہور میں گنگارام کا نام یاد رہے گا حالانکہ وہ مسلمان نہیں تھا۔ دنیا کبھی پیسے والے لوگوں اور بڑے بڑے بادشاہوں کو یاد نہیں کرتی۔ ایک ان کو یاد کرتی ہے جو انسانیت کے لئے کچھ کر کے جاتے ہپیں۔ بڑے بڑے صوفیا کرام جنہوں نے برصغیر میں اسلام پھیلایا آج بھی لوگ ان کے مزاروں میں جا کر فاتحہ پڑھتے ہیں اور دعائیں دیتے ہیں۔ صوفی حضرات بڑے انسان تھے انہوں نے انسانیت کی بہت خدمت کی ان کے مسائل حل کئے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت 2013ء میں خیبرپختونخوا میں آئی تو وہاں برا حال تھا۔ دہشت گردی سے قبائلی علاقوں اور کے پی کے میں سب سے بڑا نقصان ہوا تھا۔ دہشت گردی سے 500 کے قریب پولیس اہلکار شہید ہو چکے تھے۔ لوگوں کو پیسے کے لئے اغواء کیا جا رہا تھا۔ کاروباری اور پیسے والے لوگ خوف سے پشاور سے اسلام آباد آ گئے۔ ہم نے کے پی کے میں امن قائم کیا حالات کو بہتر بنایا جس کے نتیجے میں ہمیں 2018ء کے انتخابات میں دوتہائی اکثریت ملی۔ یو این ڈی پی کی رپورٹ میں تھا۔ خیبرپختونخوا میں تیزی سے غربت کم ہوتی جس صوبے میں امیر اور غریب میں فاصلے کم تھے وہ خیبرپختونخوا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی درج تھا کہ خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ انسانی ترقی ہوئی۔ 50 ،60 سال پہلے پاکستان بہت آگے تھا مگر آہستہ آہستہ بہت پیچھے چلا گیا بنگلہ دیش جسے بعض پاکستانی حکمران اپنے لئے بوجھ سمجھتے تھے آج وہ آگے چلا گیا ہے۔نااہل اورکرپٹ حکمرانوں نے ملک پیچھے کی طرف دھکیل دیا ۔ امیر امیر اور غریب غریب ہوتا گیا آج ایک چھوٹا سا طبقہ  ایسا ہے کہ جس کے پاس پیسے کی بھرمار ہے کہ دنیا کا امیر ترین بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ ہمارے بعض حکمرانوں کی لندن کے ان علاقوں میں جائیدادیں ہیں جہاں برطانیہ کا وزیراعظم بھی جائیداد نہیں خرید سکتا۔ چھوٹا سا طبقہ امیر ہوگیا اور باقی قوم پیچھے چلی گئی۔ ہم نے ڈھائی سال میں بلوچستان میں 3300 کلو میٹر کی سڑکیں اور منصوبے بنائے ۔ سی پیک کے مغربی روٹ سے بلوچستان میں ترقی کیلئے باب کا آغاز ہوگا۔ پچھلے 15 سال میں صرف 1100 کلو میٹر سڑکیں بنائی گئیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم کو بلوچستان کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی اس لئے بلوچستان پر توجہ نہیں دی گئی ۔ پاکستان کا مغربی روٹ بھی ترقی میں پیچھے رہ گیا۔ عمران خان نے کہاکہ میرا نظریہ یہ ہے کہ پاکستان تب ترقی کرے گا۔ جب اس کا نچلا طبقہ اوپر آئے گا۔ مدینہ کی ریاست کا ماڈل یہی تھا کہ غریب طبقے کو اوپرلایا گیا ۔ ریاست مدینہ میں سربراہ مہنگے کپڑے نہیں بناتے تھے، پیسہ عوام پر خرچ کرتے تھے، وہ مہنگے محلات میں نہیں رہتے  تھے اور پسماندہ علاقوں کو قومی دھارے میں لایا جائے گا ہم ان صوبوں جہاں ہماری حکومت ہے تمام لوگوں کو ہیلتھ کارڈ دے رہے ہیں جس کے ذریعے کسی بھی ہسپتال سے علاج کرایا جاسکے گا۔ فلاحی ریاست کی طرف جانے کا یہ سب سے بڑا اقدام ہے۔ کسان کارڈ دینے کیلئے پنجاب میں رجسٹریشن شروع کردی گئی ہے۔ کسانوں کو کسان کارڈ کے تحت براہ راست  سبسڈی دیں گے جس سے چھوٹے کسانوں کو فائدہ ہوگا ۔ احساس پروگرام کے ذریعے مستحقین  کی مدد کی جارہی ہے۔ وزیراعظم نے دورہ کوئٹہ کے دوران زیارت موڑ اور دیگر منصوبوں کا افتتاح کیا ۔ وزیراعظم کو ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

(