اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کا اختیار لینے کیلئے آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے ذریعے 15ویں ترمیم لانے کافیصلہ

اسمبلی سیکرٹریٹ سے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری، اجلاس میں وزیراعظم آزادکشمیر بطور خاص شرکت کریں گے

مظفرآباد (ویب ڈیسک)

حکومت آزادکشمیر نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کا اختیار لینے کے لئے آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے ذریعے 15ویں ترمیم لانے کافیصلہ کرلیا۔ صدر آزادکشمیر سردارمسعود خان نے آج دن دو بجے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس مظفرآباد میں طلب کرلیا۔حکومت کا یہ فیصلہ چیئرمین کونسل  اور صدر آزادکشمیر کی دانستہ اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انحراف کے بعد کیا ہے۔ اس وقت آزادکشمیر عدلیہ میں بحران اتنا شدت اختیار کرچکا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں صرف ایک ایک جج فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔حکومت نے اس بحران کے خاتمے کے لئے 15ترمیم کا مسودہ وزارت قانون سے تیار کر کے کابینہ میں پیش کرنے کے  بعد آج اسمبلی میں پیش کرنا ہے اس سلسلے میں وزیراعظم آزادکشمیر نے اسلام آباد میں مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں ۔معاملات طے ہونے کے بعد ججز تقرری کااختیار عارضی طور پرصرف دو ماہ کیلئے آزادحکومت کو دینے پر اتفاق ہوا۔ اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق دو ماہ بعد اختیار واپس چیئرمین کشمیر کونسل کے سپرد ہوجائے گاا ور اس ترمیم کے لیے وفاق کو اعتماد میں لیاگیا ہے۔ذرائع کے مطابق عبوری آئین 1974کے آرٹیکل 41,42,43میں ترمیم کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے لئے چیئرمین کشمیر کونسل کی ایڈوئس کے بجائے اب یہ اختیار براہ راست آزاد حکومت کو سونپا جائے گا۔اس سلسلے میں صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے عبوری آئین 1974کے آرٹیکل 27ذیلی آرٹیکل (1)کے تحت تفویض اختیارات کو بروائے کار لاتے ہوئے قانون ساز اسمبلی کااجلاس بروز منگل چار مئی 2021دن دو بجے بمقام بلاک نمبر12سول سیکرٹریٹ طلب کرلیا ہے۔اس ضمن میں اسمبلی سیکرٹریٹ سے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کردیاگیا ہے۔سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر اس اجلاس کی صدارت کرینگے۔ اجلاس میں وزیراعظم آزادکشمیر بطور خاص شرکت کریں گے جبکہ تمام حکومتی ممبران بھی اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔خیال ظاہر کیاجارہا ہے کہ ا جلا س صرف ایک ہی روز جاری رہے گا اور بل پیش ہونے کے بعد اس کی فوری منظوری لے لی جائے گی۔