ٹرمپ پر فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال پر پابندی برقرار، اپنا ‘سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ متعارف کرادیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک)

فیس بک کے نگراں بورڈ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔تاہم فیس بک کے نگراں بورڈ نے اس پابندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقل نوعیت کی پابندی فیس بک کے عام سزاوں کے دائرہ کار سے باہر ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے  کے مطابق نگراں بورڈ نے فیس بک کو فیصلے پر نظرثانی کرنے اور پابندی کے حوالے سے مناسب جواز پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے، جو یہ عام صارفین سمیت ہر ایک پر لاگو ہوتا ہے۔نگراں بورڈ کا کہنا ہے ٹرمپ کو مستقل طور پر معطل کرنے کا ابتدائی فیصلہ غیر یقینی اور غیر معیاری تھا اور اس کا صحیح جواب قواعد کے مطابق ہونا چاہیے جو اس کے پلیٹ فارم کے دوسرے صارفین پر لاگو ہوتا ہے۔فیس بک کے نگراں بورڈ نے اس ضمن میں کہا ہے کہ اس حوالے سے فیس بک کو چھ ماہ کے اندر جواب دینا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق  رواں سال 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر ہونے والے پرتشدد حملے کے بعد فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اکانٹس بند کردیے تھے۔خیال رہے کہ فیس بک کی جانب سے کیپٹل ہل پر دھاوا بولنے کی حمایت میں تبصرہ کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکانٹ 24 گھنٹے کیلئے بلاک کیا گیا تھا تاہم بعد اسے غیرمعینہ مدت تک کیلئے بند کردیا گیا۔علاو ہ ازیں کئی ماہ تک پابندی کے شکار صارفین کے لیے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے وعدے کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ویب سائٹ میں ایک نیا سیکشن متعارف کرادیا۔یہ ‘سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ بنیادی طور پر ایک بلاگ ہے جس کا انداز ٹوئٹر کی طرح ہے تاہم اس میں طویل بلاگ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہوسٹ کیے جائیں گے۔لوگ اس پلیٹ فارم میں ای میل اور فون نمبر کی مدد سے پوسٹ الرٹس کے لیے سائن اپ ہوسکیں گے اور مبینہ طور پر ان کو لائیک بھی کرسکیں گے۔اسی طرح صارفین ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹس کو فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی شیئر کرسکیں گے۔اس پلیٹ فارم میں ٹوئٹر سے شیئرنگ کا آپشن تو فی الحال کام نہیں کررہا مگر فیس بک کی جانب سے ضرور یہ سہولت فراہم کی گئی ہے۔ٹوئٹر کے ترجمان نے اس حوالے سے ٹیکنالوجی ویب سائٹ دی ورج سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عموما ویب سائٹ ریفرنس کے ساتھ مواد کی شیئرنگ کی اجازت اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ٹوئٹر قوانین کے خلاف نہ ہو۔اس پلیٹ فارم کو باضابطہ طور پر 4 مئی کو لانچ کیا گیا تھا مگر اس میں موجود پوسٹس 24 مارچ کی بھی ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پوسٹ ان کے نئے پلیٹ فارم کے لیے ویڈیو اشتہار ہے جس میں اسے ایسا مقام قرار دیا گیا ہے جہاں آزادی سے بات کی جاسکتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ بتدریج اپنے حامیوں سے براہ راست رابطہ بھی کرسکیں گے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایسا کیسے ممکن ہوگا۔یہ پلیٹ فارم اس وقت لانچ کیا گیا ہے جب فیس بک کے اوور سائٹ بورڈ کی جانب سے فیس بک اور اس کے زیر ملکیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سابق امریکی صدر کے اکاونٹس کی پابندی کو برقرار ہے۔ سابق امریکی صدر کے لیے یہ نیا پلیت فارم ایک ڈیجیٹل سروس کمپنی کمپین نیوکلیس نے تیار کیا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق کمپین منیجر پراڈ پارسکل کی کمپنی ہے۔

#/S